امریکہ ، یورپین یونین اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے پابندیوں کے خطرے کی وجہ سے ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ معاشی پابندیاں تمام فریقوں کے لیے نقصان دہ ہوں گی اور یہ کہ ترکی اپنے اتحادیوں کے ساتھ تنازعات کو مذاکرات اور تعاون کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔
میرے خیال میں اس وقت یہ ایک اچھی حکمت عملی ہے ، کیونکہ مغربی یہودی لابیاں حالات کو خراب کرنا چاہتے ہیں تا کہ ترکی 2023 کے معاہدہ اختتامی دروازے تک نہ پہنچ سکے۔
عرب نیوز کے مطابق ترک صدر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب یورپی یونین نے مشرقی بحیرہ روم میں گیس کے ذخائر کی تلاش نہ روکنے پر ترکی کے خلاف پابندیوں میں توسیع کا فیصلہ کیا۔
یاد رہے کہ اس سمندری علاقے پر یورپی یونین کے دو رکن ممالک یونان اور قبرص ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
جبکہ دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئیل نے برسلز میں یورپی یونین کانفرنس کے بعد کہا کہ یورپ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہے لیکن کسی ایسی پالیسی کو قبول نہیں کرے گا جس سے اس کے رکن ممالک یا اس کے علاقائی ماحول کو نقصان پہنچے۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ کچھ مدت پہلے امریکہ نے ترکی پر معاشی پابندیاں عائد کرنے اور ان کے ذریعے ترکی کے دفاعی ادارے کو نشانہ بنانے کے حوالے سے پختہ ارادے کا اظہار کیا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ ترکی کے روس سے دفاعی نظام S 400 حاصل کرنے پر معاشی پابندیاں لگائی جائیں گی۔ امریکنوں کا معاشی پابندیوں کے حوالے سے اعلان کسی بھی وقت متوقع ہے ، تاہم اس اقدام سے ترکی اور نئی امریکی حکومت کے درمیان تعلقات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکہ کے اسی معاشی پابندیوں کے ممکنہ اقدام کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد ترکی لیرا کی قدر میں 1.4 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
ترک اعلیٰ عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ معاشی پابندیوں کا منفی ردعمل آئے گا اور یہ کہ ترکی سفارتی ذرائع اور مذاکرات کے ذریعے ان مسائل کا حل چاہتا ہے ، لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ہم یک طرفہ دباؤ نہیں قبول کریں گے ، اور نہ ہی اور اپنی ساکھ کا سودا کریں گے۔ یورپین یونین اور امریکہ ہمیں بلیک میل کرنی کی کوشش کر رہے ہیں ، جو سرے سے قبول نہیں۔











0 تبصرے:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔