ہفتہ، 12 دسمبر، 2020

ماضی میں اپوزیشن کے جلسوں کو کیسے روکا گیا اور اس بار نیا کیا ہے؟

0 تبصرے
حکومت نے مینار پاکستان میں جلسے کی اجازت نہیں دی اور اعلان کیا گیا ہے کہ جلسہ گاہ میں کرسیاں، ساؤنڈ سسٹم اور ٹرانسپورٹ وغیرہ فراہم کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔




        ماضی میں جہاں حکومتیں احتجاج کو روکنے کے لیے سیاسی قیادت کو نظر بند کر کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کر کے سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں عمل میں لا کر احتجاج روکتی تھیں، وہیں سیاسی جلسوں کو ناکام بنانے کے لیے کبھی انوکھے، منفرد اور خوفناک طریقے بھی آزمائے جاتے تھے۔
اب کی بار قیادت اگرچہ مولانا فضل الرحمان ہی کر رہے ہیں لیکن اس احتجاجی تحریک کا اصل چہرہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری ہیں۔




    موجودہ حکومت بھی اس جلسے کو ناکام بنانے کے لیے کئ ٹرینڈز متعارف کروا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے مینار پاکستان میں جلسے کی اجازت نہیں دی گئی اور وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جلسے کے منتظمین ، کرسیاں اور ساؤنڈ سسٹم وغیرہ فراہم کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔
ڈی جے بٹ اور لاہور میں مریم نواز کی ریلیوں میں استقبالیہ کیمپ لگانے والے بہت سے اور سیاسی رہنماوں اور کارکنان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔


    اس اثنا کے حوالے سے لاہور کی پچھلی ریلی کے دوران مریم نواز کو کھانا کھلانے والے لکشمی چوک کے مشہور بٹ کڑاہی ہوٹل کے مالکان کے خلاف بھی ایف آئی درج کی گئی ہے جو ایک منفرد مثال ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دفعہ 144 ، 16 ایم پی او اور اس طرح کے دیگر قوانین کے ذریعے احتجاج روکنے اور سیاسی رہنماؤں کی نظر بندی کے باوجود جب سیاسی جماعتیں جلسے کرنے سے باز نہیں آتی تھیں تو پاکستان میں ان جلسوں کو روکنے کے لیے سب سے پہلا حربہ جلسہ گاہ میں پانی چھوڑنا ہی ہوتا تھا۔ کراچی کے نشتر پارک اور لاہور کے موچی دروازے کے میدان کو متعدد مرتبہ پانی سے بھرا گیا ہے۔
    سینیئر صحافی و سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر مہدی حسن اپنی یادداشتوں کو تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ سیاسی جلسوں کو ناکام بنانے کے لیے پانی چھوڑ دینا تو بہت ہی پرانا حربہ ہے۔ پاکستانی حکومتیں اس حوالے سے اپنا ایک الگ نام رکھتی ہیں۔ اس کو روکا بھی گیا تھا۔ 1970 میں ذوالفقار علی بھٹو نے موچی گیٹ پر پہلا جلسہ کیا تو اس سے دو دن پہلے ڈاکٹر مبشر حسن اپنے ایک قابل اعتماد ترکھان کو لے کر گئے جس نے موچی گیٹ کو پانی دینے والے چھ انچ پائپ میں پانچ چھ فٹ لمبی لکڑی تراش کر پھنسا دی تھی جس سے پانی نہیں دیا جا سکا تھا۔‘
    انھوں نے بتایا کہ ’بھٹو ہی کے ناصر باغ کے جلسے میں ایک بار حکومت نے بجلی کے ننگے تار ڈال دیے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس سے قبل ’ایوب کے مارشل لاء کے دور میں ڈیڑھ سال کی جدوجہد میں روزانہ کی بنیاد پر جلوس نکلتے اور پولیس اور رینجرز کے ساتھ جھڑپ ہوتی تھی۔ اس عرصے میں 243 لوگ ہلاک جبکہ 800 کے قریب گرفتار ہوئے تھے۔ ‘

        انھوں نے بتایا کہ ’جب ایوب نے مارشل لاء لگایا تو کراچی سے کچھ ایسے طلبہ کو کراچی بدر کیا گیا تھا جو مارشل لاء کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ان میں معراج محمد خان، فتح یار علی خان، شہنشاہ حسین اور کچھ اور انقلابی طلبہ شامل تھے۔ جب وہ ساہیوال ریلوے سٹیشن پرپہنچے تو انھیں ٹرین سے اتار کر کہا گیا کہ ان کے لاہور جانے پر بھی پابندی ہے۔ کیونکہ حکومت کو خدشہ تھا کہ وہ لاہور میں بھی احتجاج کریں گے۔ میں نے ساہیوال 12 دن تک ان کی میزبانی کی تھی۔ ہم نے باقی سفر چھپ کر موٹرسائیکلوں پر طے کیا تھا۔

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔