جمعہ، 9 اپریل، 2021

خوبصورت غزل - خزاں کے دور میں ذکرِ بہار کیا کرنا - ماجد صدیقی

0 تبصرے



لب و زبان کو ماجدؔ! فگار کیا کرنا

خزاں کے دور میں ذکرِ بہار کیا کرنا


جسے ترستے بجھی ہیں بصارتیں اپنی

اب اُس سحر کا ہمیں انتظار کیا کرنا


نہ کوئی مدّ مقابل ہو جب برابر کا

تو رن میں ایسی شجاعت شمار کیا کرنا


یہ سر خجل ہے ٹھہرتا نہیں ہے شانوں پر

اِسے کچھ اور بھی اب زیر بار کیا کرنا


نہاں نہیں ہے نگاہوں سے جب کِیا اُس کا

کہے پہ اُس کے ہمیں اعتبار کیا کرنا


سبک سری میں جوہم پر کیا ہے دُشمن نے

جواب میں ہمیں ایسا ہی وار کیا کرنا


ماجد صدیقی 

پیر، 21 دسمبر، 2020

علی وزیر کو مقابلے میں مارنے کی تیاری | سرخ جانوروں اور خونی لبرلز کا پراپیگنڈہ بے نقاب | مایا ناز صحافی عمران خان کا گہرا تجزیہ۔

0 تبصرے

 

ویڈیو پسند آنے کی صورت میں لائیک کرنا اور دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا نہ بھولیں۔


Video Credit: IMRAN KHAN (Anchor & Analyst)

اتوار، 13 دسمبر، 2020

آرمینیا کی کاراباخ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، متنازع علاقے پر ایک بار پھر بمباری

0 تبصرے

 آرمینیا کی وزارت دفاع نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ آذربائیجان نے نگورنو کاراباخ متنازعہ علاقے میں اپنی جارحانہ کاروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ دوسری طرف آذر بائیجان نے آرمینیا پر کاراباخ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق روسی وزارت دفاع کو کاراباخ میں جنگ بندی کی پہلی خلاف ورزی کا پتہ چلا ہے جو کہ آرمینیا کی طرف سے کی گئی ہے۔



ایک ماہ قبل روسی صدر میر پوتین نے کہا تھا کہ روس نے کاراباخ میں لڑائی کا مکمل خاتمہ کرنے میں‌ کامیابی حاصل کر لی ہے۔ روس نے ۱۱۰۰ امن فورسز اہلکار کاراباخ منتقل کر دیئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کاراباخ میں لڑائی کے نتیجے میں چار ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ روسی امن فوجیوں نے ۱۳ نومبر کو ناگورنو کارباخ خطے کے صدر مقام اسٹپنکارت کے مضافات کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور آرمینیائی اور آزربائیجانی فوج کے مابین قریبی رابطہ لائن کی طرف جانے والی مرکزی شاہراہ کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔ 


آرمینی فوج کے زیر کنٹرول شہر کے جنوبی مغربی راستے پر تقریبا دس کلومیٹر دور واقع قصبے کی طرف جانے والی سڑک پر درجنوں امن فورسز اہلکار اور کم از کم تین بکتر بند گاڑیاں ایک چوکی پر تعینات کی گئیں تھی۔ گذشتہ ہفتے یہاں کا کنٹرول آذربائیجان کی فوجوں نے لیا تھا۔ آرمینیا اور آذربائیجان نے تقریباً ایک ماہ  قبل روسی کوششوں سے فائر بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے ، جس کے تحت کاراباخ میں ستمبر کے آخر میں شروع ہونے والے تنازع کا بہ ظاہر خاتمہ ہوگیا تھا۔ لیکن ایک دفع پھر وہ دھبی آگ بھڑک اٹھی اور آرمینیا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متنازع علاقے پر بمباری کردی۔

ہفتہ، 12 دسمبر، 2020

کراچی: پولیس اہلکار ہی شہریوں کے اغوا میں ملوث!

0 تبصرے

کراچی (ویب ڈیسک) کراچی میں کچھ مدت کیلئے اغوا کرنے اور پھر تاوان وصول کرنے میں پولیس کے ہی ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ ڈی ایس پی انویسٹی گیشن سعید آباد کے گن مین سمیت تین ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ ملزمان نے ایک بلڈر کو اغوا کرکے اس سے 15 لاکھ روپے تاوان وصول کیا تھا۔

فوٹو: ٹوئٹر

نائینٹی ٹونیوز کے مطابق کراچی میں پولیس موبائل اور وردی میں اغوا کی وارداتوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ”اے وی ایل سی پولیس“ نے ایک اہلکار سمیت تین ملزمان کو ابتدائی طور پر گرفتار کر لیا ہر ۔ گرفتار شدہ پولیس اہلکار احمد وسیم DSP انویسٹی گیشن راشد اقبال کا گن مین ہے۔ جبکہ دوسری طرف کراچی پولیس چیف کا کہنا ہے کہ DSP کو معطل کردیا گیا ہے۔

اوپر جو ہم نے بلڈر کا ذکر کیا تھا ؛ بلڈر شعیب نے بتایا کہ اسے 2 دسمبر کو ایک پولیس موبائل میں اغوا کیا گیا اور کسی دفتر لے گئے وہ دفتر کچھ یوں لگ رہا تھا کہ کسی پولیس آفسر کا دفتر ہو۔ جہاں ایک شخص نے نیب کے اے ڈے یعنی اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے نام سے اپنا تعارف کروایا اور ایک کروڑ روپے تاوان مانگا ، لیکن پھر 20 لاکھ روپے میں ڈیل فائنل ہوئی ، اور تب جا کر میری جان چھوٹی۔

عمان: 103 ممالک کے لیے فری سیاحتی ویزوں کا اعلان ، پاکستان شامل نہیں!

0 تبصرے

سلطنت عمان کی جانب سے 103 ممالک کے لیے مشروط طور پر انٹری فری سیاحتی ویزہ پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔

عمانی حکومت نے ٹوئٹر پر اس حوالے سے کہا ہے کہ عمان آنے والے سیاحوں کو پیشگی ہوٹل بکنگ اور واپسی کی کنفرم بکنگ پیش کرنا ہوگی۔ سیاحوں کو میڈیکل انشورنس بھی حاصل کرنا ہو گی۔ سیاحتی پروگرام کا تمام تر انتظام ٹور آپریٹرز کریں گے۔


فوٹو: ٹوئٹر

گزشتہ ہفتے عمانی حکام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ کرونا وائرس کے باعث ملک میں سیاحتی کاروبار بہت متاثر ہوئی ہے جبکہ بالخصوص ہوٹل بزنس شدید متاثر ہوا۔

    واضح رہے کہ تمام خلیجی ممالک نے کرونا کی وبا کے دوران مکمل طور پربین الاقوامی پروازوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ پھر اکتوبر 2020 کو مرحلہ وار نرمی کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں خلیجی شہریوں اور مخصوص اقامہ ہولڈرز کو آنے کی اجازت دی گئی تھی

    سکائی نیوز کے مطابق جن ممالک کے لیے مشروط ویزہ فری انٹری کی سہولت فراہم کی گئی ہے ان میں یورپی یونین دوسری فہرست میں جنوبی امریکہ کے ممالک جن میں برازیل ، ارجنٹائن ، کولمبیا اور ویزویلا وغیرہ شامل ہیں

    ویزہ فری ممالک کی تیسری فہرست میں جاپان ، رشین فیڈریشن ، چین ، تھائی لینڈ ، جنوبی افریقہ ، ہانک کانگ ، برونائی دار السلام ، آذربیجان ، ازبکستان ، قازقستان ، بوسنیا ، انڈیا اور ویتنام کے علاوہ دیگر عرب ممالک شامل ہیں تاہم #پاکستان کا نام فہرست میں شامل نہیں۔

حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنا اور اپوزیشن

0 تبصرے


حکومت نے مینار پاکستان لاہور میں ہونے والے اج 13 دسمبر کے جلسے کی اجازت نہیں دی ، تمام اداروں کو اس کی ممنوعیت کے احکامات صادر فر ما دیئے ہیں۔ لیکن اپوزیشن باز نہیں آ رہی اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے جا رہی ہے۔

فوٹو: ٹویٹر

اب دیکھتے ہیں کہ رٹ کو چیلنج کرنے پر کیا ری ایکشن سامنے آتا ہے۔ ماضی میں دیکھا جائے تو رٹ کو چیلنج کرنے والوں کا انجام بہت برا نظر آتا ہے لیکن ایک بات ضرور ہے کہ اب کی بار جمہوری پارٹیاں حکومتی رٹ کو چیلنج کر رہی ہیں جبکہ ماضی میں جن کے خلاف ری ایکشن سامنے آیا ہے ، وہ یا تو فلاحی تنظیمیں ہیں یا مذہبی یا پبلک۔

    مثال کے طور پر طالبان نے مذہبی تنظیم کی شکل میں حکومتی رٹ کو چیلنج کیا تھا ، اسی طرح جولائی میں بہت سے پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کو حکومتی رٹ چیلنج کرنے کے نام پر گرفتار کیا گیا تھا وغیرہ وغیرہ۔

    اب دیکھتے ہیں کہ جمہوریت جمہوریت کے خلاف کونسی قسم کا ریکشن کرے گی یا کرے گی بھی کہ نہیں۔

انڈین کسانوں کے احتجاج میں شدت آگئی ، 14 دسمبر سے بھوک ہڑتال کا فیصلہ

0 تبصرے

انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ زرعی اصلاحات سے کسانوں کو خوشحالی ملے گی ، جبکہ دوسری طرف کسانوں کا احتجاج بہت شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور حکومت نے دارالحکومت دہلی کی سرحدوں پر سکیورٹی فورسز اور بھی بڑھا دی ہیں۔

فوٹو: ٹویٹر

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر کو نریندر مودی نے دہلی میں انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اجلاس میں کہا کہ اصلاحات سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا جس سے کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ”حکومت کی طرف سے کی جانے والی اصلاحات کا مقصد کسانوں کو خوشحال بنانا ہے ، پرائیویٹ سیکٹر اس سلسلے میں ملک میں زراعت کے شعبے کو بہتر کرنے میں مدد کرے گا۔“

    پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق تمام کسان تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ ان کے رہنما 14 دسمبر سے دہلی سے ملحقہ سنگھو بارڈر پر بھوک ہڑتال کریں گے۔

    دو ہفتوں سے زیادہ مدت ہزاروں کی تعداد میں احتجاج کرنے والے کسانوں کا ماننا ہے کہ نئے قانون سے انڈیا میں روایتی منڈیوں کی تباہی ہو گی ، حکومت طے شدہ قیمت پر چاول اور گندم نہیں خریدے گی ، اور پرائیویٹ سیکٹر کے رحم و کرم پر ہوں گے۔
    روئٹرز کے مطابق کم از کم تیس کسان تنظیمیں ان قوانین کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان قوانین کو واپس کر دیا جائے ، اب تک کسان تنظیموں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک مسئلہ حل نہیں ہو سکا اور ڈیڈ لاک موجود ہے۔

وزیراعظم کی یقین دہانی کے باوجود کسان ہمسایہ ریاستوں کے ذریعے دہلی میں احتجاج کے لیے داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق کسانوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے احتجاج میں شدت لے کر آ رہے ہیں اور دہلی ، جے پور ہائی وے سمیت جمنا ایکسپریس وے کو بند کر رہے ہیں۔

فوٹو: ٹویٹر

دوسری طرف دہلی پولیس نے دہلی کی سرحدوں پر سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے۔ کسانوں کے اس احتجاج کو اندرون انڈیا میں پندرہ مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے جبکہ اس کے علاوہ عالمی سطح پر بھی کسانوں کی حمایت کی جا رہی ہے۔

    گذشتہ ہفتے انڈیا میں زرعی اصلاحات کے خلاف سراپا احتجاج کسانوں کے حق میں لندن میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا تھا جس سے کسانوں کی عالمی حمایت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

← خاص پوسٹیں

خوبصورت غزل - خزاں کے دور میں ذکرِ بہار کیا کرنا - ماجد صدیقی

لب و زبان کو ماجدؔ! فگار کیا کرنا خزاں کے دور میں ذکرِ بہار کیا کرنا جسے ترستے بجھی ہیں بصارتیں اپنی اب اُس سحر کا ہمیں انتظار کیا کرن...