لب و زبان کو ماجدؔ! فگار
کیا کرنا
خزاں کے دور میں ذکرِ
بہار کیا کرنا
جسے ترستے بجھی ہیں
بصارتیں اپنی
اب اُس سحر کا ہمیں
انتظار کیا کرنا
نہ کوئی مدّ مقابل ہو
جب برابر کا
تو رن میں ایسی شجاعت
شمار کیا کرنا
یہ سر خجل ہے ٹھہرتا
نہیں ہے شانوں پر
اِسے کچھ اور بھی اب
زیر بار کیا کرنا
نہاں نہیں ہے نگاہوں سے
جب کِیا اُس کا
کہے پہ اُس کے ہمیں
اعتبار کیا کرنا
سبک سری میں جوہم پر
کیا ہے دُشمن نے
جواب میں ہمیں ایسا ہی
وار کیا کرنا











0 تبصرے:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔