آرمینیا کی وزارت دفاع نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ آذربائیجان نے نگورنو کاراباخ متنازعہ علاقے میں اپنی جارحانہ کاروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ دوسری طرف آذر بائیجان نے آرمینیا پر کاراباخ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق روسی وزارت دفاع کو کاراباخ میں جنگ بندی کی پہلی خلاف ورزی کا پتہ چلا ہے جو کہ آرمینیا کی طرف سے کی گئی ہے۔
ایک ماہ قبل روسی صدر میر پوتین نے کہا تھا کہ روس نے کاراباخ میں لڑائی کا مکمل خاتمہ کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ روس نے ۱۱۰۰ امن فورسز اہلکار کاراباخ منتقل کر دیئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کاراباخ میں لڑائی کے نتیجے میں چار ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ روسی امن فوجیوں نے ۱۳ نومبر کو ناگورنو کارباخ خطے کے صدر مقام اسٹپنکارت کے مضافات کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور آرمینیائی اور آزربائیجانی فوج کے مابین قریبی رابطہ لائن کی طرف جانے والی مرکزی شاہراہ کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔
آرمینی فوج کے زیر کنٹرول شہر کے جنوبی مغربی راستے پر تقریبا دس کلومیٹر دور واقع قصبے کی طرف جانے والی سڑک پر درجنوں امن فورسز اہلکار اور کم از کم تین بکتر بند گاڑیاں ایک چوکی پر تعینات کی گئیں تھی۔ گذشتہ ہفتے یہاں کا کنٹرول آذربائیجان کی فوجوں نے لیا تھا۔ آرمینیا اور آذربائیجان نے تقریباً ایک ماہ قبل روسی کوششوں سے فائر بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے ، جس کے تحت کاراباخ میں ستمبر کے آخر میں شروع ہونے والے تنازع کا بہ ظاہر خاتمہ ہوگیا تھا۔ لیکن ایک دفع پھر وہ دھبی آگ بھڑک اٹھی اور آرمینیا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متنازع علاقے پر بمباری کردی۔











0 تبصرے:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔