ہفتہ، 12 دسمبر، 2020

انڈین کسانوں کے احتجاج میں شدت آگئی ، 14 دسمبر سے بھوک ہڑتال کا فیصلہ

0 تبصرے

انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ زرعی اصلاحات سے کسانوں کو خوشحالی ملے گی ، جبکہ دوسری طرف کسانوں کا احتجاج بہت شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور حکومت نے دارالحکومت دہلی کی سرحدوں پر سکیورٹی فورسز اور بھی بڑھا دی ہیں۔

فوٹو: ٹویٹر

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر کو نریندر مودی نے دہلی میں انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اجلاس میں کہا کہ اصلاحات سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا جس سے کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ”حکومت کی طرف سے کی جانے والی اصلاحات کا مقصد کسانوں کو خوشحال بنانا ہے ، پرائیویٹ سیکٹر اس سلسلے میں ملک میں زراعت کے شعبے کو بہتر کرنے میں مدد کرے گا۔“

    پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق تمام کسان تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ ان کے رہنما 14 دسمبر سے دہلی سے ملحقہ سنگھو بارڈر پر بھوک ہڑتال کریں گے۔

    دو ہفتوں سے زیادہ مدت ہزاروں کی تعداد میں احتجاج کرنے والے کسانوں کا ماننا ہے کہ نئے قانون سے انڈیا میں روایتی منڈیوں کی تباہی ہو گی ، حکومت طے شدہ قیمت پر چاول اور گندم نہیں خریدے گی ، اور پرائیویٹ سیکٹر کے رحم و کرم پر ہوں گے۔
    روئٹرز کے مطابق کم از کم تیس کسان تنظیمیں ان قوانین کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان قوانین کو واپس کر دیا جائے ، اب تک کسان تنظیموں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک مسئلہ حل نہیں ہو سکا اور ڈیڈ لاک موجود ہے۔

وزیراعظم کی یقین دہانی کے باوجود کسان ہمسایہ ریاستوں کے ذریعے دہلی میں احتجاج کے لیے داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق کسانوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے احتجاج میں شدت لے کر آ رہے ہیں اور دہلی ، جے پور ہائی وے سمیت جمنا ایکسپریس وے کو بند کر رہے ہیں۔

فوٹو: ٹویٹر

دوسری طرف دہلی پولیس نے دہلی کی سرحدوں پر سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے۔ کسانوں کے اس احتجاج کو اندرون انڈیا میں پندرہ مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے جبکہ اس کے علاوہ عالمی سطح پر بھی کسانوں کی حمایت کی جا رہی ہے۔

    گذشتہ ہفتے انڈیا میں زرعی اصلاحات کے خلاف سراپا احتجاج کسانوں کے حق میں لندن میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا تھا جس سے کسانوں کی عالمی حمایت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔